June 13, 2026
daily arz news

رمضان ٹرانسمیشن، گھریلو تنازع اور ٹی آر پی کا کھیل

52407960-5fd4-4e00-a135-973cdc298df8

ایک مظلوم خاتون کی آواز

گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کی رمضان ٹرانسمیشن میں میزبان فضا علی کے پروگرام میں سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر نبیہا علی کی موجودگی نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ پروگرام میں ڈاکٹر نبیہا علی نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے شوہر اور سسرال والوں سے تنگ آ کر گھر واپس آ گئی ہیں۔ پروگرام کے دوران دکھائی جانے والی ہمدردی، جذباتی مناظر اور سوال و جواب نے ناظرین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا—کچھ لوگ اسے ایک مظلوم خاتون کی آواز قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے ایک منظم اسکرپٹڈ ڈرامہ سمجھ رہے ہیں۔

پروگرام دیکھتے ہوئے ایک عام ناظر کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا واقعی یہ ایک گھریلو تنازع ہے، یا پھر رمضان ٹرانسمیشن کی ریٹنگ بڑھانے کی ایک حکمتِ عملی؟ خاص طور پر جب اگلے ہی دن ڈاکٹر نبیہا علی اور ان کے شوہر حارث کھوکھر نے سوشل میڈیا پر اپنے اپنے بیانات جاری کیے، تو شکوک و شبہات مزید بڑھ گئے۔ دونوں جانب سے الزامات بھی لگے، مگر انداز ایسا تھا جیسے دروازہ مکمل طور پر بند نہ کیا گیا ہو۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ نجی چینلز نے ذاتی زندگی کے تنازعات کو عوامی تماشہ بنایا ہو۔ ہمارے ہاں رمضان ٹرانسمیشنز میں مذہبی مواد کے ساتھ ساتھ جذباتی کہانیاں، گھریلو مسائل اور سوشل میڈیا شخصیات کو سامنے لا کر ریٹنگ حاصل کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مقدس مہینے میں گھریلو جھگڑوں کو اس انداز میں نشر کرنا مناسب ہے؟

ڈاکٹر نبیہا علی ماضی میں بھی سوشل میڈیا پر تنازعات کا حصہ رہی ہیں۔ کبھی بارش کے پانی کے معاملے پر بیانات، کبھی مختلف دعوے، اور ہر بار ایک نئی بحث۔ ان کی شہرت کا ایک بڑا حصہ تنازع سے جڑا رہا ہے۔ اسی لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی نیا تنازع سامنے آئے تو عوام کا شک کرنا غیر فطری نہیں۔

دوسری جانب، یہ بھی ممکن ہے کہ معاملہ واقعی گھریلو ہو اور ایک خاتون نے اپنی بات عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہو۔ مگر سوال یہاں نیت کا نہیں، پلیٹ فارم کا ہے۔ کیا گھریلو تنازعات کا حل ٹی وی اسکرین ہے؟ کیا خاندان کے مسائل کو لاکھوں ناظرین کے سامنے رکھنا دانشمندی ہے؟ اور کیا میزبان کا کردار ثالث کا ہونا چاہیے یا محض ریٹنگ کا ذریعہ؟

ریٹنگ کی دوڑ میں ہمارے چینلز کہاں تک جا چکے ہیں؟ کیا اب ہر جذباتی کہانی ایک “کنٹینٹ” ہے؟ کیا ہر آنسو ایک “کلپ” ہے؟ اور کیا ہر تنازع ایک “سیریز” بن سکتا ہے؟ خدشہ یہی ہے کہ اگر یہ واقعی اسکرپٹڈ حکمت عملی ہے تو رمضان کے آخری عشرے میں “مفاہمت” کرا کے ایک اور جذباتی قسط نشر کی جائے گی، اور یوں ریٹنگ دوبارہ اوپر چلی جائے گی۔

اگر ایسا ہوا تو یہ صرف ایک شو کی کامیابی نہیں ہوگی، بلکہ ناظرین کی سادگی کا استحصال ہوگا۔ اور اگر معاملہ سچا نکلا تو بھی سوال اپنی جگہ قائم رہے گا کہ کیا میڈیا کو نجی معاملات کے لیے عدالت یا ثالث کا کردار ادا کرنا چاہیے؟

اصل مسئلہ افراد نہیں، رجحان ہے۔ ہمارا میڈیا کب تک تنازع، جذبات اور ذاتی زندگیوں کو فروخت کرتا رہے گا؟ کیا واقعی ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ ریٹنگ کے لیے کسی کی ازدواجی زندگی کو بھی اسکرین پر لے آئیں؟

سچ کیا ہے، یہ وقت بتائے گا۔ ممکن ہے رمضان کے آخر میں حقیقت کھل کر سامنے آ جائے۔ مگر ایک بات طے ہے:

رمضان ٹرانسمیشن، گھریلو تنازع اور ٹی آر پی کا کھیل

arz news digital

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *