برطانیہ نے ایران سے منسلک تنظیموں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں عائد کر دیں۔
برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا مقصد برطانیہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی یقینی بنانا ہے۔ ایران پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، عالمی تجارت متاثر کرنے اور خطےمیں عدم استحکام پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت کی مبینہ سرگرمیوں کیلئے فنڈنگ کرنے والے مالیاتی نیٹ ورکس پر پابندیاں لگائیں، ایرانی ریاست سے منسلک گروہ یورپ اور امریکا میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، مشتبہ افراد کے برطانیہ سفر، مالی اثاثوں اور کاروباری سرگرمیوں پر قدغن عائد کی جائے گی۔
برطانوی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ ایران سے منسلک مجرمانہ نیٹ ورکس کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، آبنائےہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے ایران کیخلاف اقدامات یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
برطانوی وزیراعظم نے ایران جیسے ممالک سے لاحق خطرات کیلئے سخت قوانین لانے کا اعلان کیا ہے۔ برطانیہ رواں سال اشتعال انگیزبیانات پر3 بار ایرانی سفیرکوطلب کرچکا ہے۔
برطانیہ فروری میں بھی ایرانی مظاہرین پر تشدد کے الزام میں پابندیاں عائد کر چکا ہے۔ برطانوی حکومت اب تک ایران سےمتعلق 550 سے زائد پابندیاں عائد کرچکی ہے۔ پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں پاسداران انقلاب سے وابستہ عناصر بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران اور روس کی مبینہ غیرمستحکم سرگرمیوں کیخلاف وسیع کارروائی کاحصہ ہیں۔
